20 جولائی 2026 - 17:17
اسرائیلی اخبار معاریو: کیا ایران کے ساتھ کشیدگی نیتن یاہو کی سیاسی بقا کا ذریعہ بن سکتی ہے؟

اسرائیلی اخبار معاریو نے ایک اعلیٰ سیاسی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم سیاسی طور پر لازماً بنیامین نیتن یاہو کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگا، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ عسکری، سیاسی اور بین الاقوامی عوامل پر منحصر ہوگا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار معاریو نے ایک اعلیٰ سیاسی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ ایران کے ساتھ کسی نئی محاذ آرائی سے اسرائیل کو سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم اس کے سیاسی اثرات لازماً وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف نہیں ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنیسٹ کے انتخابات قریب آنے کے باعث کسی بھی نئی جنگ یا کشیدگی کے نتیجے میں کئی ہفتوں تک میزائل حملے، مالی نقصانات اور آبادکاروں کی روزمرہ زندگی میں شدید خلل پیدا ہو سکتا ہے، جو انتخابی ماحول پر بھی اثر انداز ہوگا۔

تاہم مذکورہ ذریعے کا کہنا تھا کہ اس وقت نیتن یاہو کے لیے سب سے بڑا سیاسی بحران حریدی (انتہا پسند مذہبی) یہودیوں کی لازمی فوجی بھرتی کا مسئلہ ہے، اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کی صورت میں یہ بحران مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں اس امکان کو بھی مسترد کیا گیا کہ نیتن یاہو انتخابات ملتوی کرانے کے لیے جان بوجھ کر جنگ چھیڑنے کی کوشش کریں گے۔ ذریعے کے مطابق، کنیسٹ کی مدت میں توسیع کے لیے کم از کم 80 ارکان کی حمایت سے قانون کی منظوری ضروری ہے، جبکہ حزبِ اختلاف کے مؤقف کو دیکھتے ہوئے ایسا ہونا بعید دکھائی دیتا ہے۔

یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں اپنی جماعت لیکود کے عہدیداروں کو ایک تجویز سے آگاہ کیا، جس کے مطابق اگر جنگ یا سکیورٹی کی صورتحال میں غیر معمولی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو لیکود کے اندرونی انتخابات منعقد نہیں کیے جائیں گے، بلکہ پارٹی کی انتخابی امیدواروں کی فہرست ایک خصوصی کمیٹی مرتب کرے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha